اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی انسداد دہشت گردی فورس کے کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ سیکورٹی اہلکار، موصل کے قدیم علاقے کو آزاد کرانے کی کارروائی کے آغاز سے اب تک داعش دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں اس علاقے میں محصور دس ہزار عراقی شہریوں کو رہا کرا چکے ہیں اور انھیں محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
میجر جنرل عبدالوہاب الساعدی نے کہا ہے کہ عراقی فوج نے محفوظ راستے قائم کئے ہیں تاکہ موصل کے قدیم علاقے کے لوگ ان راستوں سے پر امن علاقوں میں منتقل ہو سکیں۔
انھوں نے کہا کہ عراقی فوج موصل کے قدیم و تاریخی علاقے کو داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دریں اثنا عراقی ٹیلیویژن نے اعلان کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے موصل کے قدیم علاقے میں باب البیض نامی علاقے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے جہاں سے دسیوں عام شہریوں کو دیگر علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔
المیادین ٹی وی نے بھی عراقی فوج کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ موصل میں جاری جھڑپوں کے دوران عراق کی انسداد دہشت گردی فورس نے قدیم علاقے میں الساعہ نامی گرجا گھر کو آزاد کرا لیا ہے۔
دوسری جانب عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے ہفتے کی شام اعلان کیا ہے کہ عراق و شام کی سرحد پر داعش کے ایک ڈرون طیارے کا پتہ لگا کر اسے مار گرایا گیا۔
عوامی رضاکار فورس کے بیان کے مطابق عوامی رضاکاروں نے اس ڈرون طیارے کو، جو دھماکہ خیز مواد کا حامل تھا، سرحدی گذرگاہ تل صفوک میں نشانہ بنایا۔
داعش دہشت گرد گروہ، اس ڈرون طیارے کے ذریعے عوامی رضا کار فورس الحشدالشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتا تھا مگر کارروائی سے قبل ہی اس کا پتہ لگا کر اسے مار گرایا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ داعشی عناصر عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے مقابلے میں شکست کے بعد کار بم دھماکوں اور دھماکہ خیز مواد کے حامل ڈرون طیاروں سے حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر صوبے صلاح الدین کے ایک مقامی ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ نے ایک داعشی کو صرف اس بنا پر نذرآتش کر دیا کہ اس نے اپنے اہل خانہ کو قتل کرنے سے متعلق داعش گروہ کے حکم پر عمل نہیں کیا تھا۔
ایک اور ذریعے نے اپنا نام نہ بتائے جانے پر کہا ہے کہ شہر تکریت کے قریب ایک علاقے میں اہل خانہ کا قتل کرنے کے بارے میں داعشی گروہ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی بنا پر داعشی عناصر نے اسے صلاح الدین کے علاقے مطبیجہ میں زندہ جلا دیا۔
واضح رہے کہ داعش دہشت گرد عناصر نے دو ہزار چودہ کے موسم گرما میں عراق کے بعض شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تاہم عراقی فوج نے عوامی رضاکاروں کی مدد و تعاون سے اپنے ملک کے بیشتر علاقوں کو داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزاد کرا لیا اور دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169